پانی کا بلبلا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - فانی، جلد فنا ہو جانے والا، فنا پذیر۔  کیا بھروسا ہے زندگانی کا آدمی بلبلا ہے پانی کا      ( فرہنگ آصفیہ، ٣٧٢:١ ) ١ - حباب  دل کی شورش ہوتے ہوتے ہو گی کم آبلہ کیا بلبلا پانی کا ہے      ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٧٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'پانی' کے ساتھ حرف اضافت 'کا' لگا کر سنسکرت اسم 'بلبلا' لگانے سے مرکب 'پانی کا بلبلا' اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠٥ء کو "یادگار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔